Kiya Ap Jante Hai K Bata Company Ka Founder/Malik Ek Mochi Tah || KesaEek Moci Na Ek Bari Company Banai || Bata Case Study


آج ہم آپ کو ایک ایسے شخص کے بارے میں بتائے گے ج نے جو تو کی دنیا میں اپنا نام ساری زنداگی کے لیے لکھو ا لیا ہے
آج ہم باٹا کے بانی کے بارے میں بتائے گے اس معلومات سے زارور آپ کی انفر میشن میں ازافا  ہو گا

Kiya Ap Jante Hai K Bata Company Ka Founder/Malik Ek Mochi Tah || KesaEek Moci Na Ek Bari Company Banai || Bata Case Study

دوستوں باٹا کا نام تو آپ سب نے سنا ہو گا باٹا کی بنیاد سن ۰۲۶۱ میں ایک چھوٹے سے گاؤں سے اس کی شروات ہوئی یہ خاندان ۰۰۴ سال سے یہی کام کر رہا تھا پھر اس خاندان کی ۸وی پڑی میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام ٹام باٹا تھا۔
اس نے اپنے اباؤ اجداد کے کام کو بڑے پیمانے پر شروع کرنے کا سوچا ۰۰۳ سال سے یہ کام ان کے خاندان میں چلا ا رہا تھا لیکن کسی نے اس کو بڑھانے کی نہ سوچی جیسے آج کل ہوتا ہے باپ کی دوکان ملی تو اس کے وارثوں میں تقسیم کر دی جاتی ہے کوئی یہ نہیں سوچتا کے اس کام کو بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔
ٹام نے اپنے خاندان کی ریوایت کو بھی توڑااور ایک کاکھنے کی بنیاد رکھیاور دس ملازم بھی رھکہ لیے۱سال یہ کام چلا ہو گا کے ٹام کرض کے تلے دبنے لگا اسے ہر قدم پر نکامی ہو رہی تھی لوگ اس کے بنائے جوتے بھی نہیں  لیتے اور ملازم بھی اس سے نراض تھے۔اس وجہ سے ٹام نے کام کرنا کم کر دیا اور گھر جا کر بٹیھ گیا۔   
ایک دن وہ راستے سے جا رہا تھا تو اسے ایک بھوڑا شخص ملا اس نے اس کے چہرے پر پریشانی دیکھ لی اور کہا کیا ہو ہے ٹام نے اسے ساری بات بتا دی اس نے کہا بیٹا تم ہمیشہ یہ خیال کرو کے آپ کا سامان کافی مہنگا ہے اور میں اپنے ملازم کو ان کی پوری محنت نہیں دے رہے ہو 
اس ترہا تم یہ محنت کرتے رہو گے کے میرا سا مان سستا ہو اور میں اپنے ملازم کو اچھے پیسے دو
دوستوں یہ بات تیر کی ترہا اس کے دل میں لگی اور اس نے ہمیشہ کے لیے اسے ٹھان لیا۔ٹام چمڑے کے جوتو کے ساتھ ساتھ کپڑے کے بھی جوتے بنانے لگا جو سستے پرتے تھے 
ان جوتو کی مانگ بڑھنے سے ملازم کی تعداد دس سے پچاس ہوگئی۔ٹام نے اپنے سامان کے پیسے کم کرنے پر بھی توجہ دی اور اپنے ملازمین کی اجرات کا بھی خیال رکھا۔اس کے الاوا ٹام نے باٹا پرایس بھی مترف کرائی جس میں سامان کی قیمت ۹ کے ہنسے پر ختم ہوتی مطلب اس کے مطابق کسی بھی چیز کی قیمت ۹۹ پر ختم ہوتی تھی جو دکھنے میں ۰۰۱ سے بہتر لگتی تھی  لیکن ۱ روپے کا ہی فرق تھا۔
دوستو ں ی ۴ سالوں میں با ٹا کا کام اس حد تک بڑھ گیا کے ان کو مشینوں کی ضرورت تھی آب مشینوں سے کم واقت میں زیادا سامان بنے لگا۔جبکے ٹام یہ سوچتا رہتا کے اپنے کروبار کو کسے بڑھائے۔اس کی محنت کی وجہ سے جلد ہی یہ کمپنی یورب کی سب سے بڑی کمپنی بن گائی ۲۱۹۱ میں اس کمپنی کے ملازم ۰۰۶ ہو گئے تھے اور جب ۴۰۹۱ میں جب پہلی جنگہ شروع ہوئی تو یہ موقع اس کے لیے اچھا سابت ہوا کیونکہ اب اس کے پاس جرمن فوج کے جوتے بنانے کے بھی اڈڑ  انے لگے اس وجہ سے اسے پہلے سے دس گنہا زیادا ملازم رکھنے پرہیے اور جنگہ کے بعد اس کا کرو بار بہت خراب ہو گیا لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری اور ۵۲۹۱ میں اس نے پھڑ ایک بار اروج پکڑا اب باٹا کمپنی کئی اکڑ تک جا چکی تھی 
مگر ایک دن جب ٹام جب ۲۳۹۱ میں جب جہاز میں سفر کر رہا تھا تو وہ جہاز کسی حادثیں کا شکار ہو گیا اور ٹام اس میں مر گیا۔
وہ تو اس دنیا سے چلا گیا لیکن اج بھی ہم سب اس کے سامان سے فایدا ٹھا رہے ہے 
امید ہے آپ کو ہماری یہ پوسٹ اچھی لگی ہو گی 

Post a Comment

0 Comments