Is There a More Dangerous Virus In The World Than The Corona Virus ? | YES | Shahmeer Blog Tv


Is There a More Dangerous Virus In The World Than The Corona Virus ? | YES | Shahmeer Blog Tv


اسلام وعلیکم:
دوستوں ایک بات تو ہے جہاں اس وئیرس نے دنیا کا نظام ہی بدل دیا ہے لیکن وہا اس کے فائدے بھی ہوئے ہے جیسے فکٹریا بند ہو گئی ہے جس واجہ سے پولیوشن بھی کافی کم ہو گئی ہے  
اور انٹاٹیکا جیسے برفیلی جگئے ہے جہا ں آلودگی کی وجہ سے گلوبر ورمنگ ہو رہی ہے جس وجہ سے ان برفوں کا پانی سمندر میں اکر مل رہاتھا اور اگر ایسے ہی چلتا رہا تو ایک دن یہ ساری زمین سمندر کے نچے داب جائے گی لیکن اس وابا کی واجہ سے پولیوشن کم ہو اہے جس واجہ سے برف کے پھگلنے کی رفتار بھی کم ہو گئی ہے اور آپ سب کو پتا ہے ازون لیر ہم انسانوں کو سورج کی خطرناک شواؤں سے بچاتی ہے جو پولیوشن کی وجہ سے کمزور ہو رہی ہے لیکن جب سے وابا شروں ہو ئی ہے دیکھا جا رہا ہے کے اوزون کی پرت بھی اپنے آپ کو دوبارا بنا رہی ہے جو انسانوں کے لیے اچھا ہے لیکن آج کا ہمارا موزو یہ نہیں ہے۔
دوستوں انٹاٹیکا میں جب برف کا ٹکرا پگھل کر اپنی جگہ سے ہٹا تو سائنسدانوں کو کیا ملا دوستوں جیسا کے آپ کو پتا ہے انٹاٹیکا کی برف کے نچے نہ جانے کتنے وئرس ہو گے جو واقت انے پر بہر آنے کا انطزا کر رہے ہے اور دوستوں ان وائرس کے بارے میں ہم انسان کرونا کی ترہا کچھ نہیں جانتے تھے ان کے بارے میں سائنسدان کا یہ خیال ہے کے یہ وائرس کرونا سے بھی زیادا اور بارے ہو سکتے ہے کیونکہ آج سے کئی سال پھلے جن جانوروں کو تیہ وائرس تھا وہ تو برف کے نچے دب کر مر گئے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کے برف کے نچے ان کی لاشوں کے ساتھ یہ وائرس ابھی بھی زندا ہو اس باتوں سے یہ بات پتا چلتی ہے کے کرونا وائرس تو ایک ٹریلر ہے فلم تو ابھی باکی ہے دوستوں اور جیسا کے ہم سب کو پتا ہے کے اس چھوٹے سے وائرس نے سبھی کو ہلا کر رکھ دیا ہے تو سو چو ں دوستوں کیا ہو گا جب کوئی اس سے بھی خطر ناک وایرس آجائے اللّلہ نہ کرئے کبھی ایسا ہو امین۔دوستوں یہ جو وائرس برف کے نچے ہے پتا نہیں کتنے خطرناک ہے اس کے بارے بات کرنے سے پھلے ہمیں جانا ہو گا کے وائرس ہے کیا۔ٓ

دوستوں یہ مایکروسکوپ میں نظر آنے والے ایسے بیرا سایٹ ہے جو کے ہو سٹ بوڈی یعنی وہ جسم جس پر یہ ہملہ کرنا چاہتے ہو اور یہ اس کی صحت مند سیلس میں داخل ہو کر اپنی جیسی بہت سی کاپیاں بہت جلد بنا لیتے ہے ان کی بوڈی لبرڈ س کی بانی ہو تی ہے جس کے اندر ڈی این اے مجود ہوتا ہے آب تک ہم انسان۵ ہزا۰۶۵ اقسام کے بارے میں ہی جانتے ہے لیکن ان کی اور بھی کتنی اقسام ہے اس کے بارے میں ہم جانتے بھی نہیں بہت سے سائنسدا اس کو جاندا اور بہت سے اس کو بے جا ن مانتے ہے ان کے مطابق یہ ایک بے جان چیز ہے جس کے اندر ڈی این اے سرف ٹرانسفر کا کام کرتے ہے جبکہ ان کی کوئی لایف نہیں ہوتی جب بھی یہ وایرس کیسی انسان کے اندر جاتے ہے تو کیسی انجکشن کی ترہا اپنا ڈی این اے ان کے انر داخل کرتے ہے یہ کہلی ہوا کے اندر زیدا دیر تک زندا نہیں رہتے ان ستہ فیٹ کی بنی ہوتی ہے اس لیے یہ ہا تھ دوہنے سے ختم ہو جاتے ہے دوستوں آپ طور پر یہ وائرس جانوروں سے انسانوں آتے ہے اور کئی جانواروں میں کئی کئی ہزار وائرس ہوتے ہے جو ان کو فایدا دیتے ہے لیکن انسان کا جسم ان کا ادی نہیں ہے اس لیے یہاانسانی جسم پر برے اثرات دیتے ہے۔
دوستوں مجودا وایرس سالس کے وائرس کی ایک قسم ہے اس لیے ہم اس کو جانتے ہے اور اس کی ویکسین بنا بھی سکتے ہے لیکن سوال یہ ہے کے جو وایئرس کئی سالوں سے اس برف کے نچے دبے ہوئے ہے کیا ہم ان کے بارے میں جانتے ہے کیا ان کی ویکسین بنانا آسان ہو گا ظاہر ہے نہیں یہ میں اس لیے کیھ رہا ہو کیونکہ ہلیہ تہکیک کے مطابق یہ وائرس سایز میں بہت بارے ہے اور ہم انسانوں کو ان کو سمجے میں کافی واقت لگے گا۔
آب اس بات کا خطرا ہے کے جب لوک ڈاون ختم ہو گا اور دوبارا وہ سارے کام شروع ہو گے جن سے آلودگی برتی ہے اور جن کی واجہ سے گلوبل وارمنگ بھی بڑ جائی گی اور اگر خدا نہ کرے وہ وائرس جو لکھوں سالوں سے برف کے نچے دبے ہے اگر وہ بہر آگئے تو کیا ہم انسان ان کا سامنا ں کر سکے گے اس سب کا ہل ایک ہی ہے کے ہم انسانوں کو ریسرچ کر کے فکٹریز کو انرجی کا مطابدل تلاش کر کے دینا چاہیے وارنہ اللّلہ نہ کرئے ہماری آنے والی نسلوں کا زامانہ بیماریوں سے لرتے یہ لاشیں اٹھاتے ہوئے گزرئے گا ویسہ تو یہ وائرس گرم ہو ا میں زندا نہیں رہ سکتے ہے لیکن کیسے یہ انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہو رہے ہے یہ تو ہم آج دیکھ سکتے ہے۔
دوستوں آپ اس بارے میں کیا رائے رکھتے ہے کومینٹ میں ضرور بتائے۔
شکریہ 



Post a Comment

0 Comments