Hazrat Ali said: How do giants die || shahmeer blog tv

آج ہم بات کرئے گے کے جنات کو موت کیسے اتی ہے اور ان کی رو کون کبض کرتا ہے اور کیا ان کی روہے بھی انسانوں کی ترہا کبض کی جاتی ہے بہت سے سوال ہے ان کے جواب اس پوسٹ کے اندر جانے گے

Hazrat Ali said: How do giants die? || shahmeer blog tv

دوستون یہ بات ایک حقیقت ہے کے اس دنیا میں جنات ہے۔اور
درت نے انہیں کئی طاقتے دی ہوئی ہے اور یہ بھی کے انہیں بھی ہر شہ کی ترہا موت کا مزا چکھنا ہو گا۔آب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کے جنات کو موت کیسے اتی ہے۔اس حوالے سے اسلامی ریوایت میں کیا کہا گیا ہے۔
(قرآن مجید کی سورت لرحمان میں ا للّلہ فرماتا ہے کے جو کچھ زمیں ہے ان سب کو فنا ہونا ہے سرف آپ کے پروردیگار کی زات باکی رہے گی جو عظمت والا اور عزت والا ہے)
اس ایت سے یہ بات تو واضہ ہوتی ہے کے ہر کسی کو موت کا ذیکا چکھنا ہے۔اور اگر جنات کی پیدائیش کے حوالے سے بات کی جائے تو قرآن مجید میں تہ واضہ کیا گیا ہے جن اور انسان اللّلہ نے اپنی عبادت کے لیے پیدا کئے ہے۔
(قرآن مجید میں اللّلہ فرماتا ہے کے میں نے جنات اور انسان کو صرف اسی لیے پیدا کیا کہ وہ میری بنداختیار کریں)
جب جنوں کے لیے عبادت کا حکم ہے تو طور تریقے بتائے گئے ہو گے کیوں کے یہ ایک الگامخلوق ہے یاد رہے قرآن مجید میں جنون کے اپر ایک پوری سورت مجود ہے جس میں یہ فرمایا گیا ہے۔
(آپ فرما دیں کے میری طرف وحی کی گئی ہے کے جنات کی ایک جماعت(میری تلاوت کو)غور سے سونا تو جا کر اپنی قوم سے کہنے لگے:بے شک ہم نے ایک عجیب قرآن سونا ہے۔جو ہدایت کی راہ دکھاتا ہے،سو ہم اس پر ایمان لے آئے ہے اور اپنے رب کے ساتھ کسی کو ہر گز شریک نہیں ٹھرائیں گے)
دوستو ں قرآن مجید  میں ایک جگہ مرنے کے بعد اٹھانے کی طرف کہا گیا ہے۔ جس سے ان کی بھی موت اور حیات کا صبوت ملتا ہے۔قرآن مجید میں اللّلہ فرما رہا ہے۔
(اور اے گروہ ِ جنات!)وہ انسان بھی ایسا ہی گمانکرنے لگے جیسا گمان تم نے کیا (کے اللّلہ مرنے کے بعد)ہر گز کسی کو نہیں اٹھائے گا)
دوستو ں ایک شخص حضرت علی ؑکے پاس آیا اور کہنے لگا کے کیا جنات کو بھی موت اتی ہے کیا انسانوں کی طرہا ان کی بھی روح کبض کی جاتی ہے حضرت علیؑ نے فرمایا:کے اے شخص یاد رکھنا کے ہر کسی کو موت کا زیکا چکھنا کے سوائے اللّلہ کے اللّلہ نے یہ زمیداری چار فرشتو ں کو دی ہے جو مخلوق لی روح کبض ل کرے پہلا فرشتہ حضرت اعزرائیل جو انسانو ں کی روح کبض کرتے ہے دوسرا فرشتہ حضرت اسرائیل جو حضرت اعزرائیل حکم پر چلتے ہے اس فرشتہ کی زمیداری ہے کے یہ جنات کی روح کبض کرتے ہے۔دوستوں یہ کو میں فرشتہ کا نام بتاؤ گاان کا نامجھے سمج نہیں ارہا اگر میں نام غلط لے رہا ہو تو کومینٹ میں بتا دے اور اللّلہ مجھے معاف کر ان کا نام ہے حضرت مبرائیل امن کی زمیداری یہ ہے کے وہ زمین میں رہنے والے جانور ں،پانی میں رہنے والی مخلوقات اور کیڑے مکوڑوں کی روح کبض کرتے ہے اور چوھتے فرشتہ کا نام ہے 
حضرت میکا ئیل۔انہیں اللّلہ کی ترف سے حکم ہے کے یہ پیر پودو کی رح کبض کرتے ہے یہ سارے فرشتہ حضرت اعزرائیل کے متحد آتے ہے کہا یعد رکہنا جنات میں ست ایک جن جس کو اللّلہ نے اپنے دربار سے نکال دیا کیونکہ اس نے اللّلہ کا حکم نہیں مانا اور دنیا اسے شیطان کے نام سے جانتی ہے جب کے اس کا اصل نام ابلیس ہے۔اللّلہ نے اس کو یہ محلت دی ہے کے وہ قیامت تک جوان اور زندا رہے۔یہ سن کر اس شخص نے پھر سوال کیا کے شیطان کی عمر کتنی ہے اس پے حضرت علیؑ نے فرمایا شیطان کی عمر اس جگہ روکی گئی ہے کے جہا ں وہ جوان اور زہین ہواس شخص نے کیہا یا علیؑ جنات کی موت کس ترہا ہوتی ہے حضرت علیؑ نے فرمایا جنات کی موت ان تین چیز وں میں ہے پہلا مٹی دوسرا بارش تیسرا شہدجب جنات کی موت کا واقت اتاہے تو سب اسرائیل جنت میں موجود شہد کی نہر سے چند قطریں شہد کے اٹھا کر جنات کے ماتھے پر رکھ دیتے ہے اور جو جن اللّلہ کے نہ فرمان جن ہوتے ہے وہ ترپ اٹھتے ہے اور جو جن اچھے ہوتے ہے ان کو یہ شہد لطف اندوز کرتا ہے۔تو یو جنات کی روح کبض ہوتی ہے دوستوں ریوایاتمیں اتا ہے کے جنوں میں بھی مسلم اور غیر مسلم ہوتے ہے اس حوالے سے سورہ جن میں اللّلہ فرماتا ہے۔
(اور یہ کے ہم سے سے کچھ نیک  ہے اور ہم میں سے کچھ برے ہم مختلف تریکوں پر چل رہے تھے۔ایک اور جگہ کیا گیا ہے کے ہم سے کچھ اچھے بھی ہے اور ہم میں سے کچھ ظلم بھی ہے۔

دوستوں اگر آپ کو یہ معلومات جان کر اچھا لگا اور آپ کے علم میں اضافہ ہو اہے تو کومینٹ میں اپنی رئے ضرور دے 
شکریہ

Post a Comment

0 Comments