bhlol dana ny bechy janat ky makan | bhlol dana or ek badsha ka kuhbsorat waqiya | bahlol dana or mlka ki kush qismati

بہلول دانا نے بچے جنت کے مکان | بہلولدانا  اور  ایک  بادشاہ  کا  خبصورت  وقیع | بہلول  دانا  اور ملکہ کی خوش قسمتی
bhlol dana ny bechy janat ky makan

ایک  مرتبہ  بہلول دانا مٹی  کے  گھر بنا رہے تھے. آپ نے دہکا ہوگا کے بچے مٹی کے گھر بنا کر اسے طور دیتے ہے ایسا کرنے پر خوش ہوتے ہے. اسے ہی بہلول دانا بھی اسی شوگل میں لگے ہویے تھے اتنے میں بادشاہ بھی وہا سے گزر رہا تھا بادشاہ نے جب بہلول کو یہ کرتے دہکا تو کہا بہلول کیا کر رہے ہو بہلول  نے کہا جنت کے محل بنا رہا ہو بادشاہ نے کہا بیچتے ہو کہا  ہاں کہا کتنے کا بہلول نے کہا ١٠ دھرم کا بادشاہ نے کہا مجنوں ہے دیوانہ ہے بادشاہ یہ سوچھ کر  وہا سے نکل گیا اتنے میں ملکہ زبیدہ بھی وہا سے جا رہی تھی جب بہلول کو یہ کام کرتے دیھکا تو کہا بہلول کیا کر رہے ہو بہلول نے بھی ووہی جواب دیا کہا جنت کے محل بنا رہا ہو ملکہ نے کہا بیچتے ہو بہلول نے کہا ہاں بیچتا ہو ملکہ نے کہا کتنے کا بہلول نے کہا ١٠ دھرم کا بادشاؤ کے لیے دس دھرم کیا ہوتے ہے ملکہ زبیدہ نے دس دھرم نکالے اور بہلول کو دے دیے  بہلول نے وہ دس دھرم دریاۓ جہلم میں پھیک دیے داتا صاب فرماتے ہے فکیر اس وقت تک فکیر نہیں بنتا جب تک اس کی نظرو میں مٹی کا پہتر اور پیسہ برابر نین ہو جاتا. اب بہلول نے ایک گھر کے اپر لکڑی سے ڈیرہ لگا دیا اور یہ تمہارا ہے ملکہ بھی وہا سے چالی گئی اب رات کو جب بادشاہ اور ملکہ سو رہے تھے تو بادشاہ کو خواب اتا ہے کے محشر کا میدان لگا ہوا ہے سب کو جنت میں ان کی محل دیے جا رہے ہے بادشاہ نے ایک گھر دیھکا بہت اچھا لگا سوچا دیھکوں کس کا ہے یہ شندار محل تو بادشاہ جب اس کے قریب پونچھا تو دہکا کے باہر ملکہ زبیدہ لہکا ہے اندر جانا چاہا تو درباری نے روک دیا یہ محل تمہارا نہیں ہے بادشاہ نے کہا ہاں میری بیگم کا ہے درباری نے کہا دنیاوی معملات اور ہے آخرت کے اور اتنے میں بادشاہ جاگ گیا اپنی بیوی کو جلدی جلدی اٹھایا اور کہا کے بتا تونے ایسا کیا کام کیا ہے مینے تیرا جنت میں مکان دھکا ہے ملکہ نے کہا کوئی ایسا کاس نہیں وہی معمول کی نمازے اور دوسرے کام کہا ہاں ہاں کل جب میں دریا کے کنارے سے گزر رہی تھی تو مینے بہلول سے ایک مکان خریدا تھا مینے کہا کوئی نہیں ایک گھر خرید لتے ہے بادشاہ سر پکڑ کے بیٹھ گیا کے وہ تو مجھے بھی کھ رہا تھا مینے نہیں لیا کے دیوانہ ہے بادشاہ کل دوبارہ وہی سے گیا سوچا اگر بہلول دوبارہ مل جے اور اسی موج میں ہوں تو مزہ ہی اجے دیھکا بہلول وہی تھا اگے برا تو دہکا کام بھی ووہی تھا بادشاہ نے وہی سوال کیا کہا بہلول کیا کر رہے ہو بادشاہ سوچنے لگا کے مجنوں ہے کوئی اور بات بھی کر سکتا ہے بہلول نے کہا جنت کے محل  بنا رہا ہوں بادشاہ نے کہا بیچتے ہو بہلول نے کہا ہاں بیچتا ہو بادشاہ نے کہا کتنے اس بار بہلول نے کہا آدھی حکومت لگے گی بادشاہ حیران ہو گیا اور کہا کل تو دس دھرم کے رہے تھے آج آدھی حکومت کہا کل تم نے دیھکا نہیں تھا آج سودا دھک کر لے رہے ہوں
بھی مجھے تو یہ واقع بہت ہی اچھا لگا اس لیے پہلی فورست میں مینے پوسٹ لکھ ڈالیاگر اپ کو بھی یہ واقعہ اچھا لگا ہے تو پلیس میرے اس بلاگ ویب سائٹ کو ضرور سبسکرائب کرے







Post a Comment

0 Comments